ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / آرمینیا میں حکومت مخالف مظاہرے، وزیر خزانہ مستعفی

آرمینیا میں حکومت مخالف مظاہرے، وزیر خزانہ مستعفی

Wed, 25 Nov 2020 19:17:43    S.O. News Service

لندن، 25/نومبر (آئی این ایس انڈیا)آرمینیا کے وزیر خزانہ ٹیگران خیچٹریان نے نیگورنو-کاراباخ میں جنگ بندی معاہدے کیخلاف مظاہروں کے باعث اپنی وزارت سے استعفیٰ دے دیا۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق آرمینیا کے وزیر کے ترجمان اینا اوہانیان کا کہنا تھا کہ انہوں نے نیگورنو۔کاراباخ میں جنگ بندی معاہدے کیخلاف ہونے والی تنقید کے باعث استعفیٰ دیا ہے۔اینا اوہانیان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر وزیر کے استعفے کا اعلان کیا جبکہ اس سے قبل گزشتہ ہفتے وزیر دفاع اور وزیر خارجہ بھی مستعفی ہوچکے ہیں۔آرمینیا کے وزیر اعظم نیکول پشینیان کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ آذربائیجان کے خطے نیگورنو-کاراباخ میں 6 ہفتے کی لڑائی کے بعد امن معاہدہ کرنے پر عوام کی جانب سے سخت تنقید اور غصے کا سامنا ہے۔عوام کی بڑی تعداد نے احتجاج شروع کیا تھا اور ان کا مطالبہ تھا کہ وزیر اعظم اور حکومت مستعفی ہو۔آرمینیا کے وزیراعظم نے شدید احتجاج کے باوجود 6 ماہ کا ایکشن پلان جاری کیا ہے، جس میں آرمینیا کے استحکام کو یقینی بنانے کے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ہونے والے معاہدے کے تحت آرمینیا نے نیگورنو-کاراباخ میں آذربائیجان سے حاصل کیے گئے 15 سے 20 فیصد علاقے کو خالی کرنے کی حامی بھری تھی جس میں تاریخی شہر شوشا بھی شامل ہے۔جنگ بندی معاہدے کے تحت نیگورنو-کاراباخ میں روس اور ترک افواج نگرانی کریں گی جبکہ آرمینیائی افراد متنازع خطہ چھوڑ دیں گے۔روس اور ترک وزرائے دفاع نے ایک یادداشت پر دستخط کیے تھے اور طے پایا تھا کہ آذربائیجان میں مشترکہ طور پر نگرانی کے لیے ایک سینٹر قائم کیا جائے گا۔جنگ بندی معاہدے کے بعد آرمینیا میں وزیراعظم نیکول پشینیان کیخلاف شدید احتجاج شروع ہوا تھا اور مظاہرین ان کو غدار قرار دیتے ہوئے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔انہوں نے مظاہرین سے مسلح احتجاج سے گریز کرنے پر زور دیا اور توقع ظاہر کی کہ اپوزیشن بھی اس اقدام کی نفی کرے گی۔


Share: